Zarinjamal/ June 2, 2019/ News and Politics/ 0 comments

احتسابی عمل پر حملہ
طیبہ فاروق نے انتہائی مستعد انداز میں اور چابکدستی کے ساتھ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہوئے ایک ہی وقت میں نہ صرف مظلوم بننے کی کوشش کی ہے بلکہ ملک کے اندر دھیرے دھیرے جڑیں پکڑنے والے احتسابی عمل کو یکدم زمیں بوس کرنے کی بھر پور کوشش بھی کی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اس خاتون کے اس عمل کے پیچھے چند ایک مضبوط سازشی عناصر کے شاترانہ دماغ کار فرما نہ ہوں۔ گزشتہ چند دنوں سے مختلف لوگوں کے نقطہ ہائے نظر پر غور کرنے کے بعد صرف اور صرف اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ اس ساری کاروائی کا واحد مقصد موجودہ احتسابی عمل کو جڑوں سے اکھیڑ پھینکنے کی ایک بھر پور کوشش کے سوا کچھ نہ تھا۔ احتسابی عمل کو اس طرح سے متنازع بنانے کا فائدہ صرف اور صرف ان افراد ہی کو ہو گا جن کے ارد گرد احتسابی عمل کا گھیرا تنگ ہو چکا ہے یا مستقبل قریب میں تنگ ہونے جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس موقع پر چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ ایک شدید نوعیت کا احتسابی برہان پیدا کر سکتا ہے اور اس کا فائدہ عام آدمی کو نہیں بلکہ اس ملک کو اپنی اپنی باریاں لگا کر لوٹنے والے لٹیروں اور ان کی اولادوں ہی کو ہو سکتا ہےجنہوں نے پہلے ہی سے اپنا سب کچھ بیرون ملک محفوظ کر رکھا ہے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایک مخصوص وقت پر ایک بڑے ادارے کے سربراہ کی گفتگو کو پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منظرعام پر لایا گیا ہے۔ دوسری طرف اب تک یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس خاتون کے خلاف ملک کے اندر مختلف تھانوں میں 42 سے زیادہ مقدمات پہلے ہی سےدرج ہیں۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ خاتون جب پہلی بار کسی مقدمے کے سلسلہ میں تھانے میں گئی ہوں گی تو ان کو جناب جسٹس جاوید اقبال کے رویے سے ہزاروں گنا زیادہ نازیبا رویے اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ اس بات کا اندازہ ہر وہ پاکستان بخوبی لگا سکتا ہے جس کو اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی تھانے میں معمولی سے کام کی خاطر جانے کا اتفاق ہوا ہو۔ حال ہی میں اسلام آباد کے اندر ننی فرشتہ کے والدین کے ساتھ پولیس کی طرف سے جس ہتک آمیز رویے کا مظاہرہ کیا گیا وہ سب کے لیے ایک زندہ مثال ہے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ملک کے طول و عرض میں مختلف تھانوں کے اندر روز مرہ بنیادوں پر رقم ہوتی رہتی ہیں۔ لہذا متاثرین میں صرف اور صرف طیبہ ہی شامل نہیں کہ اس نازک وقت میں زمینی حقائق کو پس پشت ڈال کر طیبہ پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کر لیا جائے اور سارے طوفان کا رخ جسٹس جاوید اقبال ہی کی طرف موڑ دیا جائے۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس خاتون نے پنجاب پولیس کے مختلف تھانوں میں 42 مقدمات کا سامنا کرلینے اور بعد ازاں جیل چلے جانےاور جیل سے باہر آنے تک کی دردناک کہانی سے کوئی پردہ نہیں اٹھایا۔ اس خاتون نے صرف انہی واقعات کے بارے میں زبان کھولی جن سے انہیں خود اوران کے پشت بانوں کوکسی بھی صورت میں کوئی نہ کوئی فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آئے دن ملک کے اندر تحقیقاتی اداروں کے پاس ہر عمرکی بے شمار خواتین زیر تفتیش رہتی ہیں۔ پاکستان کے اندر کسی بھی زیر تفتیش شخص کے ساتھ تحقیقاتی اداروں کے ملازمین کی طرف سے عزت و احترام کا رویہ روا رکھنا ناقابل یقین ہے۔ پاکستان کی پوری تایخ میں نہ تو ایسا کبھی ہوا ہے اور نہ ہونے کا امکان ہے کہ تحقیقاتی اداروں کے افسران اخلاقی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ وہ ہر حال میں دوران تفتیش اخلاقی اور قانونی معیار کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوں۔ اگر ہر تھانے میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے آنے والے ہر مدعی کی بے بسی کی ویڈیو بنا کر منظرعام کر دی جائے تو ملک کے اندر منٹوں کے اندر ایک بھونچال آجائے اور ہر طرف افراتفری پھیل جائے۔

جسٹس جاوید اقبال کی طرف سے طیبہ فاروق کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو خواہ کوئی بھی رخ دیا جائے اس ساری گفتگو سے یہ کہیں ظاہر نہیں ہوتا کہ طیبہ فاروق ‍ کے ساتھ زبردستی کی جا رہی ہو۔ وہ اپنی گفتگو کے دوران جسٹس صاحب کی توجہ اپنی طرف مائل کرنے کی بھر پو رکوشش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اپنی گفتگو کے دوران ایک موقع پر تو وہ یہاں تک کہہ دیتی ہیں کہ وہ تو صرف ان سے ملاقات کے لیے آتی ہیں اپنے مقدمہ کے لیے نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طیبہ تسلیم کر چکی ہیں کہ یہ آڈیوز اور ویڈیوز انہوں نے خود تیار کی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک طے شدہ منصوبے کے ساتھ میدان میں اتری ہوں گی۔ اس گفتگو کو ایک مرد اور عورت کا ذاتی معاملہ صرف وہی لوگ قرار دیتے ہیں جن کے اپنے دامن اس طرح کی حرکتوں سے داغ دار ہو چکے ہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ وہ خاتون جو کبھی کسی آفیسر کی بیوی ہوا کرتی تھی اس کو طلاق دلوا کر پیپلز پارٹی کے سابق گورنرغلام مصطفی کھر نے اس سے شادی کر لی تھی۔ کیا یہ بھی درست نہیں کہ وہ خاتون آج کل پنجاب کے سابق وزیر اعلی شہباز شریف کی بیوی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب “مینڈا سائیں” میں تفصیل کے ساتھ اپنی شادیوں کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح اور بہت سی مثالیں موجود ہیں جن کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، حسن نواز، حسین نواز کے سیاہ کرتوں کی مثالیں کوئی زیادہ زنگ آلود نہیں ہوئیں۔

اس طرح کے بہت سے بھاری بھر کم حقائق کی موجودگی میں جسٹس جاوید اقبال کے اوپر سارا ملبہ ڈال کر احتسابی عمل کو تہس نہس کر دینے کا فائد ایک بار پھرصرف انہی لوگوں کے حصے میں آنے کا امکان ہے جو اپنی اپنی باری پر اس طرح کی خرابیوں کی ازخود روشن مثالیں قائم کرتے رہے ہیں۔ آخر میں تما م چورن فروشوں سے گزارش ہے کہ اب وہ اس معاملے کو بھول جائیں اور اس ملک کو گدھ کی طرح نوچنے والوں کی مزید پشت پناہی کرنےسے گریز کریں۔ سب سے مضبوط ریاستی ادارے کی طرف سےحال ہی میں احتسابی عمل کی ایک شاندار انداز میں شروعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ احتسابی عمل کایہ بے خوف ریلا اب رکنے والا نہیں ہے اوراپنی راہ میں حائل ہرخس و خاشاک کو بہا کر لے جائے گا۔ ان حالات میں لٹیروں کے لیےواحد ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قوم کے غرباء کی لوٹی ہوئی دولت فوری طور پر واپس کردیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا تہیہ کر لیں۔

 

Share this Post

Leave a Comment